وزیر حکومت چوہدری محمد سعید توہین عدالت کے دوسرے مقدمہ میں سماعت ، 3ماہ کی مہلت۔۔۔۔

آزاد میگا مارٹ اور ٹیوٹا آزاد موٹرز کی ناجائز تجاوزات کی مکمل مسمارگی ، مکمل تفصیلی رپورٹ سامنے آگئی

میرپور (ظفر مغل سے)آزاد جمو ں کشمیر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس چوہدری محمد ابراھیم ضیاء اور سینئر جج جسٹس راجہ محمد سعید اکرم پر مشتمل بینچ نے آزاد کشمیر کے وزیر حکومت چوہدری محمد سعید کیخلاف زیر سماعت توہین عدالت کے دوسرے مقدمہ میں سماعت کے دوران اُن کی عمارات آزاد میگا مارٹ اور ٹیوٹا آزاد موٹرز کی ناجائز تجاوزات کی مکمل مسمارگی کے لیے 3ماہ کی مہلت کی استدعا قبول کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ وزیر موصوف اپنی اور اپنے بھائی کی طرف سے تحریری طور پر 3ماہ میں مکمل تجاوزات گرانے کی یقین دہانی ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ کے دفتر میں جمع کروائیں جبکہ بینچ نے ٹیوٹا آزاد موٹرز کی عمارت سے متعلق معاملے کو یکسو کرنے کے لیے سیشن جج میرپور کو انکوائری کمیشن مقرر کرتے ہوئے فریقین کو بعد از سماعت ریکارڈ کی روشنی میں ایک ماہ میں رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروانے کا حکم جاری کر دیا ۔ جبکہ ٹیوٹا آزاد موٹرز کے معاملہ میں الگ سے فائل مرتب کرنے کا بھی حکم جاری ۔تفصیلات کے مطابق آزاد جمو ں کشمیر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس چوہدری محمد ابراھیم ضیاء اور سینئر جج جسٹس راجہ محمد سعید اکرم پر مشتمل بینچ نے آزاد کشمیر کے وزیر حکومت چوہدری محمد سعید کیخلاف روبکار عدالت بنام چوہدری محمد سعید توہین عدالت کے دوسرے مقدمہ میں سماعت کے دوران اُن کی عمارات ٹیوٹا آزاد موٹر اور آزاد میگا مارٹ کی تجاوزات نہ ہٹائے جانے پر توہین عدالت کی کارروائی میںایڈووکیٹ جنرل آزاد کشمیر سردار کرمداد خان کی طرف سے فرد الزام کی نقول وزیر کھیل کو فراہم کی گئیں ۔ اس دوران وزیر موصوف نے عدالت کے روبرو پیش ہو کر استدعا کی کہ وہ اپنے بھائی چوہدری نعیم کی طرف سے بھی تحریری طور پر یقین دہانی پیش کرنا چاہتے ہیں کہ ہمیں 3ماہ کی مہلت دی جائے ہم 3ماہ مکمل تجاوزات کے خاتمہ کویقینی بنا دیں گے جس پر چیف جسٹس مسٹر جسٹس چوہدری محمد ابراھیم ضیاء نے ریمارکس دیے کہ آپ کو 3ماہ قبل عدالت کے روبرو کھڑے ہو کر مہلت طلب کرنے پر ایک ماہ کی مہلت دی گئی تھی اور آج آپ دوسرا موقف اختیار کر کے ان عمارات کی ملکیت سے انکاری ہو کر پھر مہلت مانگ رہے ہیں ۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کے کاروبار اور متعلقہ دونوں عمارات کو سیل کردیں آپ عام آدمی نہیں وزیر حکومت ہیں آپ کو ذمہ داری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ کیا آپ کو تجاوزات گرانے میں 6سال کا عرصے لگے گا اس موقع پر سینئرجج جسٹس راجہ سعید اکرم نے کیا آپ کی ناجائز تجاوزات مسئلہ کشمیر ہے جو حل نہیں ہو رہا۔اگر عدالت نے آپ کی عمارات کو سیل کر دیا تو لگ پتہ جائے گا۔چیف جسٹس مسٹر جسٹس چوہدری محمد ابراھیم ضیاء نے وزیر حکومت اور اُن کے کونسل راجہ انعام اللہ کی تحریری یقین دہانی کے بعد دونوں عمارات آزاد میگا مارٹ اور ٹیوٹا آزاد موٹرز کی تجاوزات مکمل طور مسمار کرنے کے لیے تین ماہ کی مہلت کا حکم جاری کر دیا جبکہ ٹیوٹا آزاد موٹرز کی عمارت سے متعلقہ کچھ تنازعہ جو گلی سڑک اور فٹ پاتھ سے متعلقہ ہے اس سلسلے میں سیشن جج میررپور کو انکوائری کمیشن مقرر کرتے ہوئے اُنھیں ہدایت کی ہے کہ وہ موقع ملاحظہ اور فریقین کو سماعت کرتے ہوئے ریکارڈ کی روشنی میں ایک ماہ میں اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائیں جبکہ عدالتی سٹاف کو حکم دیا کہ وہ ٹیوٹا آزاد موٹرز کے سلسلہ میں الگ سے فائل مرتب کریں دریں اثناء میرپور شہر میں ماسٹر پلان بحالی اور غیر قانونی سلسلہ میں توہین عدالت کے مقدمہ میں ڈپٹی کمشنر میرپور سردار عدنان خورشید سے رپورٹ طلب کرنے پر انھوں نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم کی تعمیل میں ماسٹر پلان کی بحالی اور مفاد عامہ کی جگہوں اور مرکزی شاہرات کی کشادگی کی راہ میں رکاوٹ تجاوزات کی مسمارگی کے لیے متعلقین کو نوٹسز جاری کیے جارہے ہیں اور اب تک روڈ اور کلیال چوک سے اکبر روڈ تک مسمارگی کے لیے نوٹسز بھی جاری کیے جارہے ہیں تاہم محکمہ برقیات اور محکمہ ٹیلی فون ایس سی او نے تاحال کھمبے نہیں ہٹائے جس سے تجاوزات کی مسمارگی میں خلل پیدا ہو رہاہے جس پر بینچ نے دونوں محکموں کو آئندہ تاریخ سماعت سے قبل تمام کھمبوں کو ہٹائے جانے کاحکم جاری کر دیااور عدم تعمیل کی صورت میں چیف انجینئر برقیات میرپور اور انچارج آفیسر ایس سی او کو اصالتا سپریم کورٹ میں پیش ہو کر وضاحت پیش کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی کہ کیوں نہ آپ کیخلاف بھی توہین عدالت کی کارروائی بھی کی جائے۔ ایک موقع پر دوران سماعت چیف جسٹس مسٹر جسٹس چوہدری ابراھیم ضیاء نے ریماکرس دیتے ہوئے کہا کہ وزیر کھیل عدالت سے کھیل رہے ہیں وہ وزیر ضرور ہیں اور قابل احترام ہیں لیکن انھیں ہر صورت میں اپنی ناجائز تجاوزات کو مسمار کرنا ہو گا ناجائز تجاوزات سے سڑکیں متاثر ہو رہی ہیں اور مفاد عامہ کو نقصان پہنچ رہا ہے اس لیے مفاد عامہ پر آنکھیں بند کی جاسکتی لیکن قانون کی عمل داری اور مفادعامہ کے لیے قوائد وضوابط پر عمل درآمد کو ہر صورت یقینی بنائیں گے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں