چوہدری محمد سعید توہین عدالت مقدمہ کی سماعت کی تفصیلات

میرپور(ظفر مغل سے)آزاد جموں وکشمیر سپریم کورٹ میرپور سرکٹ میں وزیر حکومت چوہدری محمد سعید کے خلاف توہین عدالت کے مقدمہ کی سماعت کے دوران چیف جسٹس مسٹر جسٹس چوہدری محمد ابراہیم ضیاء اور سینئر جج جسٹس راجہ محمد سعید اکرم پر مشتمل بینج کے رو برو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر راجہ انعام اللہ خان نے روسٹرم پر آکر عدالت سے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ آج میں بحث کیلئے تیاری نہیں کر سکا کیونکہ میں اپنی فیملی کی شادیوں میں مصروف تھا لہٰذا بحث کیلئے آئندہ تاریخ مقرر کر دی جائے جس پر چیف جسٹس مسٹر جسٹس چوہدری محمد ابراہیم ضیا ء نے برہمی کا اظہا رکرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ بحث کی تاریخ کے موقع پر آپ نے آئندہ تاریخ مقرر کرنے کی استدعا کی تھی جسے منظور کرتے ہوئے آج کی تاریخ مقرر کی گئی تھی اور آج آپ پھر آئندہ تاریخ کی بات کر کے عدالت سے مذاق کیوں کر رہے ہیں اور اس طرح آپ سارے دروازے بند کر رہے ہیں اس موقع پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ چوہدری سعید کہاں ہیں جس پر ان کے کونسل راجہ انعام اللہ نے بتایا کہ وہ آج عدالت نہیں آئے جس کے بعد چیف جسٹس چوہدری ابراہیم ضیا ء نے ریمارکس دیئے کے کہ ادھ گھنٹے کا وقت دیتا ہوں کہ اگر وہ عدالت میں حاضر نہ ہوئے تو وارنٹ جاری کر کے انھیں عدالت پیش کرنے کیلئے لایا جائے گا ویسے بھی دو تین ماہ کے بعد قربانی کی عید آرہی ہے اس پر راجہ انعام اللہ خان نے معزز عدالت سے جو اباً کہا کہ وہ ابھی چوہدری سعید سے رابطہ کر کے انھیں عدالت میں حاضر کرتا ہوں جس کے بعد وہ عدالت سے باہر نکل گئے تھوڑی ہی دیر میں چوہدری سعید نے عدالت کے روبرو حاضر ہوتے ہوئے معذرت کی اور کہاکہ مجھے میرے کونسل نے کہا تھا کہ آج آپ کی حاضری کی ضرورت نہ ہے اس کے باوجود میں معزز عدالت سے معافی کا طلبگار ہوں ۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ توہین عدالت کا مقدمہ فوجداری مقدمہ جس میں ملزم کی حاضری اصالتاً ہوتی ہے اس لئے آپ کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔ اس موقع پر چیف جسٹس مسٹر جسٹس چوہدر ی محمد ابراہیم ضیا ء نے 50ہزار روپے جرمانہ عدالت میںجمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے توہین عدالت کے اس مقدمہ میں راجہ انعام اللہ کی بحث کیلئے 22مئی کی تاریخ سپریم کورٹ سرکٹ میرپور کیلئے مقرر کر دی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں