وزیراعظم کی آڈیو کال ریکارڈنگ وائرل ہونے کے بعد مزید پیشرفت سامنے آگئی

مظفرآباد(اڑان نیوز) وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کی دو ٹیلی فون ریکارڈنگز سوشل میڈیا پر وائرل ہونےکے بعد آزادکشمیر کے سیاسی۔صحافتی اور پاکستان کے اعلیٰ سطحی حلقوں میں بھونچال آیا ہوا ہے۔

عوامی حلقوں نے ریکارڈنگ میں استعمال کیے گئے الفاظ پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے مذمت کی۔ دوسری طرف وزیراعظم سیکرٹریٹ نے ابھی تک ان کال ریکارڈنگز بارے کوئی بیان تو جاری نہیں کیا تاہم ذرایع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم ان کالز بارے تحقیقات کرا رہے ہیں۔

گزشتہ رات یہ خبر گردش کرتی رہی ہے کہ سردار سکندر حیات کے فرزند وزیر مال سردار فاروق سکندر اپنے والد کے خلاف نازیبہ الفاظ استعمال ہونے پر مستعفی ہونے والے ہیں اور سکندر حیات خان کے قریب سمجھے جانے والے وزراء بھی وزیراعظم کو ٹف ٹایم دیں گے۔

لیکن آج اطلاع ملی ہے کہ سردار سکندر حیات خان نے اپنے بیٹے کو وزارت چھوڑنے سے روک دیا ہے دوسری طرف ایک آڈیو ریکارڈنگ جس کے بارے میں بتایا جارہا تھا کہ وزیراعظم اس میں وزیراطلاعات مشتاق منہاس سے گفتگو کر رہے ہیں۔ اس آڈیو ٹیپ اور فون کال بارے مشتاق منہاس نے صاف انکار کر دیا ہے۔ مشتاق منہاس کا کہنا ہے کہ میرے ساتھ اس طرح کی بات وزیراعظم نے کبھی بات نہ کی ہے۔

قبل ازیں گزشتہ روز سامنے آنے والی ایک آڈیو ریکارڈنگ میں مبینہ طور پر وزیراعظم آزادکشمیر اپنے بیٹے عثمان کے کسی ڈرائیور سے پیسے لے کر بھرتی کرنے اور وزیر تعلیم افتخار گیلانی کے ساتھ گھومنے والے نوجوانوں کی طرف سے انہیں گالیاں دینے کا اعتراف کیاگیاہےاور ساتھ ہی نواز لیگ چھوڑ کر مسلم کانفرنس میں شمولیت اختیارکرنے والی خاتون رہنما نصرت درانی کے بارے میں نازیبا زبان بھی استعمال کررہے ہیں۔ یہ گفتگو انہوں نے وزیرتعلیم افتخار گیلانی سے کی جو لیک ہوئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں