حکومت محکمہ صحت میں اصلاحات لانے کیلئے وسائل برئے کار لا رہی ہے

مظفرآباد(بیورو رپورٹ) وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموںوکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہیکہ حکومت آزادکشمیر نے گزشتہ 3سالوں میں صحت کے شعبہ میں 2ہزار نئی آسامیاں تخلیق کیں جن کی اکثریت ٹیکنیکل کی تھی جبکہ 3ہزارسے زائد لیڈیز ہیلتھ ورکرز کو نارمل میزانیہ پر لایا ،میڈیکل کالج کو فعال اور اس کی ڈگری کو باوقار بنایا پولیو بچائو مہم کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں کی تمام سیاسی جماعتوں ،سول سوسائٹی ،علماء کرام کو سختی سے حوصلہ شکنی کرنی چاہے بچوں کو عمر بھر کی معزوری سے بچانے کے لیے ویکسینیشن انتہائی ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ای پی آئی پروگرام کے تحت بچوں کو ویکسی نیشن کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر وزیر صحت ڈاکٹر نجیب نقی ،وزیر صنعت وترقی نسواں نورین عارف ،ڈاکٹر بشریٰ شمس و دیگر نے بھی خطاب کیا ۔انہوں نے کہاکہ ایس او ایس چلڈرن ویلج کے بچے میرے اپنے بچے، ادارے کے ساتھ ساتھ آزادکشمیر حکومت بھی ان کی کفالت میں اپنا بھرپور حصہ ڈالے گی میں نے خود یتیمی دیکھی ہے مجھے اندازہ ہے کہ چاہے جو سہولت میسر ہو جب سر سے سایہ اٹھتا ہے تو بہت تکلیف ہوتی ہے۔وزیر اعظم آزادکشمیر نے کہاکہ یہ امر باعث مسرت ہے کہ آزادکشمیر میں طویل عرصے سے پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اسے آسان لیں یہ مشکل بھی ہو سکتا ہے ایک صحت مند نسل کی تیاری کے لیے ضروری ہے کہ کہ بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوائے جائیں اور انہیں کورسز کروائے جائیں وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ پشاور میںبچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے روکنا انتہائی افسوسناک ہے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر صحت ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان نے کہا کہ آزادکشمیر کے اندر صحت کے شعبہ میں عملی تبدیلی لاکر دکھائی ہے ۔صرف نرسز کی تعداد کو دوگنا کیا گیا دس اضلاع میں فری ایمرجنسی سروس فراہم کی جا رہی ہے میڈیکل کالجز کا الحاق یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز سے کیا گیا محکمہ صحت میں آسامیاں پہلی مرتبہ ضروریات کو مدنظر رکھ کر تخلیق کی گئیں مظفرآباد اور میرپور میں دل کے علاج کے خصوصی یونٹس کے قیام کی منظوری کی جا چکی ہے جبکہ مزید سہولیات کے لیے بھی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں