آزاد کشمیر عبوری آئین 1974؁ء میں 14ویں ترمیم کی تیاریاں

تحریر : ظفر مغل
ریاست جموں وکشمیر کے آزاد علاقے میں 1974؁ء میں سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے دوران پارلیمانی جمہوری نظام کیلئے عبوری ایکٹ 1974؁ء دے کر آزاد جموں وکشمیر اسمبلی اور آزاد جموں وکشمیرکونسل کا باضابطہ قیام عمل میں لایا گیا اور آزاد خطہ سے قانون سازی کے52امور سمیت محکمہ انلینڈ ریونیو ، حسابا ت ، آڈٹ و اکائونٹس جیسے کے اہم ترین محکمہ جات کے مکمل اختیارات کشمیر کونسل کو تفویض ہوگئے ۔ پھر 44سالوں تک آزاد خطہ میں آنے والے سیاسی حکمرانوں کو کشمیر کونسل میں تعینات مستعارالخدمتی نو کر شاہی کے وزرات امور کشمیر کے انچارج وزراء کی آشیر باد بے جا مداخلت ، نادر شاہی احکامات، ملازمین کی من مرضی سے تعیناتیوں ، ترقیاتی سکیموں میں گھپلے اور محکمہ انلینڈ ریونیو کے ذریعے میگا کرپشن کی نت نئی عجب وغضب کہانیوں کیخلاف اکثر شکایات رہیں اور وفاقی سطح پر ہر آنے والی نئی حکومت کی ایما ء پر سیاسی وزراء امور کشمیر نے آزاد خطہ میں میگا پراجیکٹس سمیت محکمہ انلینڈ ریونیو سے حاصل ہونیو الی آمدن ، غیر ملکی کمپنیوں کے ہائیڈل پاور پراجیکٹس سمیت دیگر بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں سے دیدہ دلیری سے ’’ حصہ بقدر جثہ ‘‘ وصول کرنے کو’’ رواج‘‘ دیا جس کی شکایات پر مبنی فائلیں اب بھی آزاد کشمیر احتساب بیورو میں سرخ فیتے کی نذر ہو کر گر دآلود ہوچکی ہیں جبکہ آزاد کشمیر میں سو موٹو کا اختیار نہ رکھنے والا احتساب بیورو اپنے 200سے زائد ملازمین کے خزانے پر بوجھ کے ساتھ گذشتہ 5سالوں میں ساڑھے تین ارب کے اخراجات کے مقابلے میں صرف 20کروڑ روپے کی ریکوری کر کے محض خانہ پوری کر سکا ہے اور احتساب بیورو میں آزاد حکومت تا حال مستقل چیئرمین بھی تعینات نہ کر سکی ہے جس سے آزاد کشمیر کرپٹ مافیا کیلئے ایک محفوظ پناہ گاہ ’’جنت ‘‘ کا روپ دھار چکا ہے، اسی طرح آزاد کشمیر سے سالانہ اربوں روپے کے ٹیکس ریونیو کا 20فیصد کشمیر کونسل کے انتظامی اخراجات اور وفاقی حکومت سے ترقیاتی مقاصد کیلئے حاصل کردہ بھاری رقوم کو بھی خرد برد کرنے کی پریکٹس دید ہ دلیری سے جاری رکھی گئی جس کا آج تک کوئی فیئر اینڈ فری فرانزک آڈٹ نہیں ہو سکا ہے ۔ جبکہ ماضی میں آزاد کشمیر احتساب بیورو کے ایک سابق جج سربراہ کو اُن پر ہاتھ ڈالنے کی پاداش میں وزرات امور کشمیر سمیت کشمیر کونسل اور محکمہ انلینڈ ریونیو میں موجود طاقت ور کرپٹ مافیا نے ’’فارغ ‘‘ کروا دیا ۔ جس کے باعث احتساب بیورو اور نیب بھی اربوں کی میگا کرپشن کے باوجود اس کرپٹ مافیا کو نکیل نہ ڈال سکے اور آزاد کشمیر میں ہر نئی منتخب عوامی حکومت وزرات امور کشمیر اور کشمیر کونسل میں قابض طاقت ور مافیا سے جان چھڑانے کے چکر میں الجھ کر نالاں ہی رہی اور ایک سابق دور حکومت میں وزیراعظم چوہدری عبدالمجید کو اپنے وزراء کے ہمراہ پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد کے سامنے دھرنا بھی دینا پڑا اور یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جب احتساب بیورو کے ذمہ داران کی طرف سے اس مافیا سے جوابداہی مانگی گئی تو کشمیرکونسل اور اس کے ماتحت اداروں کو وفاق کا حصہ قرار دیا گیا جبکہ نیب کے پوچھنے پر کشمیر کونسل کو آزاد کشمیر کے ایکٹ 1974؁ء کے تحت قائم ہونے پر اُن کے دائرہ اختیار میں نہ آنے کا جواب دے کر گلو خلاصی کی گئی اور اسطرح مافیا کے’’سیانوں‘‘ نے44سالوں میں کھل کر آزاد خطہ کے وسائل کو ’’شیر مادر سمجھ کر لوٹنا ‘‘اپنا حق سمجھا اور احتساب و جوابدہی سے اپنے آپ کو مبرا قرار دیتے رہے اور بلآخر آزاد کشمیر کی موجودہ حکومت کے دور میں حکمران اور اپوزیشن ممبران نے مشترکہ جدوجہد کے ذریعے پارلیمانی کمیٹی بنا کر 13ویں آئینی ترمیم کا مسودہ وفاقی حکومت کو ارسال کیا جسے کچھ ترامیم کے ساتھ وفاقی حکومت نے 30مئی 2018کو منظور کرتے ہوئے حکومت آزاد کشمیر کو ارسال کر دیا اور 2جون 2018کو آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی اور کشمیر کونسل کے مشترکہ اجلاس میں 13ویں آئینی ترمیم کو منظور کرتے ہوئے باقاعدہ آئین کا حصہ بنا دیاگیا جس کے نتیجہ میں عبوری آئین 1974؁ء کے آرٹیکل 37کو حذف کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے کنسالیٹیڈڈ فنڈ آرٹیکل 37سے کشمیر کونسل کے اختیارات بابت ٹیکس ہا اور دیگر تمام ریونیو کی وصولی کلی طور پر حکومت آزاد کشمیر کے اختیار میں آگئی اور آرٹیکل 51-Aکے تابع آزاد کشمیر کونسل کی جملہ منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کشمیر پراپرٹی تمام اثاثہ جات ورقوم ، فکس ڈیپازٹ اور قرضہ جات بھی حکومت آزاد کشمیر کی عملداری میں آگئے اور محکمہ انلینڈ ریونیو ، حسابات ، آڈٹ واکائونٹس سمیت تمام ملازمین و آفیسران کیساتھ شیڈول تھرڈ میں پارٹBکے 22قانون سازی کے امور حکومت آزاد کشمیر اور پارٹ Aکے 32امور13ویں آئینی ترمیم کے نتیجہ میں براہ راست حکومت پاکستان کے پاس چلے گئے جبکہ کشمیر کونسل کا رول آرٹیکل 21ذیلی آرٹیکل 8کے تحت صرف ایڈ وائززی تک محدود کر دیا گیا اسی طرح آئین پاکستان 1973؁ء میں درج تمام انسانی حقوق کے علاوہ خود مختار الیکشن کمیشن ،اسلامی نظریاتی کونسل ، شریعت اپیلٹ بینچ کو آزاد کشمیرکے آئین کا حصہ بنا دیا گیا ہے مگر شومئی قسمت کے13ویں ترمیم کے بعد مالی وا نتظامی طور پر آزاد حکومت کو اندرونی خود مختاری ملنے کے باوجود محکمہ مالیات اور محکمہ قانون و حکومت میں موجود ’’سیانے ‘‘ ایک سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود آزاد خطہ میں محکمہ انلینڈ ریونیو پر مکمل کنٹرول حاصل نہ کر سکے اور نہ ہی طاقت ور مافیا نے وزرات امور کشمیراور کشمیر کونسل میں موجود کرپٹ مافیا کی ایماء پر دل سے 13ویں آئینی ترمیم کو قبول کیا بلکہ اس ترمیم میں بعض سقم رہ جانے کی آڑمیں 14ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ’’ چھوٹتی نہیں ہے یہ کافر منہ کو لگی ہوئی ‘‘ کے مصداق دوبار ہ محکمہ انینڈ ریونیوکوکشمیر کونسل کی عملداری میں لانے کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے وزیر امور کو بھی ’’رام ‘‘کرنے ٹھان لی دوسری طرف حکومت آزاد کشمیر کے ’’سیانوں ‘‘ نے بھی آئینی سقم دور کرنے کیلئے 14ویں آئینی ترمیم کی سفارشات مرتب کرنا شروع کر رکھیں ہیں جس سے پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت اور ن لیگ کی آزاد حکومت نے تعلقات کار کشیدہ صورت بھی اختیار کرنے کے امکانات ہیں ا س میں شک نہیں کہ 13ویں ترمیم کے بعد آزاد حکومت کے ذمہ دا ر ایک سال بعد بھی محکمہ انلینڈ ریونیو کے ’’شتر بے مہا ر‘‘ بیورو کریٹس کو لگا م نہ دے سکے اور آزاد خطہ میں ایف بی آر کی طرز پر سی بی آر قائم کر سکے نہ ہی چیف کمشنر انلینڈ ریونیو اور محتسب ٹیکس تعینات کر سکے جس باعث آزاد کشمیر ہائی کورٹ نے بھی اس بارے میں2 رٹ پٹیشنوں کوسماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے محکمہ انلینڈ ریونیو کے غیر قانونی وغیر آئینی نوٹسز کو معطل کر کے حکم امتناعی بھی جاری کر دیا ہے اسی طرح کشمیر کونسل میں قابض کرپٹ مافیا نے گذشتہ 44سالوں میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 220ارب روپے سے زائد کی لوٹ مار کر چکا ہے جس کا آج تک کوئی شفاف تھرڈپارٹی آڈٹ یا فرانزک آڈٹ نہ ہوسکا ہے اور اس مافیا نے اندرون و بیرون ملک اربوں روپے کے اثاثہ جات بھی بنا رکھے ہیں یہاں یہ امر بھی پوشید ہ نہیں ہے کہ کشمیر کونسل کے کرپٹ مافیا نے محض احتساب سے مبرا رہنے کیلئے محتسب ٹیکس کی تقرری پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ آف فیڈرل ٹیکس محتسب آرڈنینس 2000ء کی طرز پر ٹیکس محتسب اور انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کے تحت چیف کمشنر انلینڈ ریو نیو کا تقرر نہ کیا اور نہ ہی اب تک 13ویں ترمیم کو بھی اس مافیا نے صدق دل سے تسلیم کیا ہے جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ عبوری آئین کے مطابق جوائنٹ سیکرٹری اور سیکرٹری آزاد کشمیر کونسل کے تقرر وتبادلہ کا اختیار وزیراعظم آزاد کشمیر کو حاصل ہے مگر جوائنٹ سیکرٹری کونسل کا تبادلہ سیکرٹری امور کشمیر نے 28مئی 2019کوکیا اور جوائنٹ سیکرٹری کا تبادلہ کرنے کی پاداش میں وزیرامور کشمیر نے خلاف آئین سیکرٹری کشمیر کونسل کو چھوٹی پر بھجواد یا اور آزاد حکومت کے متعدد مکتوب ہا کے باوجود سیکرٹر ی کشمیر کونسل نے ملازمین سے متعلقہ ریکارڈ سیکرٹری سروسز اور سیکرٹری مالیات کو تا حال نہیں فراہم نہیں کیا ۔ جس سے ایک مرتبہ پھر وزرات امور کشمیر اور آزاد حکومت کے درمیان تعلقات کار میں بہتری کی بجائے خلیج بڑھنے سے عوام کے دلوں میں بھی نفرت کے بیج پروان چڑھنے لگے ہیں جس کے نتائج مستقبل میں انتہائی خطرناک بھی ہوسکتے ہیں کیونکہ کشمیر کونسل کا طاقت ور مافیا ریاست کے اندر اپنی ریاست قائم کرتے ہوئے منتخب عوامی حکومت کے آئینی احکامات کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر اپنی چوہدراہٹ کا سکہ جمانے کی کوشش میں ہے ۔ویسے بھی پاکستان میں وزیر اعظم کے ویژن کے مطابق میگا کرپشن میں ملوث بڑے بڑے مگر مچھوں پر ہاتھ ڈال کر اس سلسلہ میں کمیشن قائم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا جبکہ پاکستان کے ایسڈ ریکوری یونٹ کے پاس آزاد کشمیر کے 100سے زائد بیورو کریٹس سمیت دوہری شہریت کے حامل سرکاری ملازمین سیاستدانوں وحکمرانوں کی میگا کرپشن کی تفصیلات بمعہ ثبوت پہنچ چکی ہیں اور چیئرمین کشمیر کونسل کی حیثیت سے وزیراعظم عمران خان آزاد کشمیر کے آئین 1974؁ء کے آرٹیکل19 سب آرٹیکل (2)کے تحت ایک ایگزیکٹو آرڈر کے تحت نیب کا دائرہ کار جلد سے جلد آزا دکشمیر تک بڑھانے کے خواہاں ہیں مگر دوسری طرف اُن کی کابینہ میں موجودوزیر امور کشمیر کی ایما پر کشمیر کونسل اور وزرات امور کشمیر میں موجودہ طاقت ور کرپٹ مافیا 14ویں ترمیم کے ذریعے محکمہ انلینڈ ریونیو کو دوبارہ کشمیر کونسل کی تحویل میں دینے کیلئے سرگرم ہوکر 44سالہ میگا کرپشن کو کو تحفظ دینے کی کوشش میں مصروف عمل ہے اب جبکہ 13آئینی ترمیم میں رہ جانے والے سقم دور کرنے کیلئے 14ویںآئینی ترمیم کا مسودہ تیار ی کے آخری مراحل میں ہے تو حکومت آزاد کشمیرکے ’’سیانوں ‘‘ کو اپنی ترجیحات میں احتسابی عمل کو نیب کی طرز پر مضبوط وموثر بنانے ،محکمہ انلینڈ ریونیو و کشمیر کونسل کو بھی اپنے احتسابی دائرہ کار میںلانے، ججز کی تقرری کیلئے اہلیت ، صلاحیت ، قابلیت اور دیانت کے مسلمہ اصولوں کی بنیاد پر مجاز فورم بنانے، بیرون ملک منی لانڈرنگ اور دوہری شہریت باعث بے نامی ٹرانزیکشن ، غیر ملکی کمپنیوں سے معاہدوں بارے میں متعلقہ قانون سازی ، کشمیر کونسل سیکرٹریٹ اور وزرات امور کشمیر سمیت چیئرمین کشمیر کونسل کے رول کو بھی واضح کیا جائے کہ وہ پاکستان وآزاد کشمیرکی کس سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں آئیںگے اسی طرح پاکستان میں کشمیر پراپرٹی ، نہری آبیانہ ،ہائیڈل پاور جنریشن کے ریونیو سے متعلقہ معاملات آزاد حکومت کو حاصل ہونے ، پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس وکشمیری تارکین وطن سے ایئر ٹکٹنگ پر ٹیکس وصولی ، آزاد کشمیر میںداخل ہونے والے تجارتی روٹ سے کسٹم ڈیوٹی کی وصولی ، غیر ملکی وملکی موبائل کمپنیوں کے آزاد کشمیر میں لائسینس کے اجراء اور دیگر متعلقہ امور کی انجام دہی کیلئے وہ حکومت آزادکشمیر یا وزرات امور کشمیر اور مالی بے ضابطگی کی صورت میں وہ کس کے دائرہ اختیار میں آئیں گی اور بین الاقوامی سطح پر آزاد حکومت کو مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے بااختیار بنانے کیلئے بھی تجاویز مرتب کر کے 14ویں آئینی ترمیم کا حصہ بنانا چاہیے تاکہ آزاد اور وفاقی حکومت سمیت وزرات امور کشمیر سے متعلق آئے روز کے تنازعات کا مستقل حل نکل سکے اور اُن کے مابین قانونی وآئینی اختیارات کا واضح تعین ہونے کے بعد آزاد کشمیر کو حقیقی معنوں میں ایک کرپشن فری ماڈل اسٹیٹ میں تبدیل کرنے کا دیرینہ خواب شرمند ہ تعبیر ہوسکے اور ’’کرپشن کے ریس کیمپ ‘‘سے خطہ جنت نظیر حقیقت میں تحریک آزادی کشمیر کے بیس کیمپ کا روپ دھار سکے ۔
شاید کے تیرے دل میں اُتر جائے میری بات !

[X]

اپنا تبصرہ بھیجیں