کرتارپور کے بعد گوردوارہ علی بیگ میں سکھوں کی آمد

ٓکرتارپور کے بعد گوردوارہ علی بیگ میں سکھوں کی آمد
تحریر: ظفر مغل ،میرپور


برصغیر کی تقسیم کے بعد 1947؁ء میں ریاست جموں وکشمیر کے اڑھائی اضلاع پر مشتمل آزاد ہونے والا علاقہ آزاد کشمیر جواب 10اضلاع میں تقسیم ہو کر 3ڈویژنل ہیڈ کوارٹرکی شکل اختیار کر چکا ہے ان میں سے میرپور ڈویژن کے مضافاتی اور پنجاب کے ضلع گجرات سے ملحقہ آزاد کشمیر کے ضلع بھمبر کو جاتے ہوئے مغربی یونین کونسل کا پہلا تاریخی گائوں علی بیگ آتا ہے ۔ جہاں تقریباً اڑھائی صدیاں قبل 1767؁ء میں سکھ بھنگی مثل کے سرداگجر سنگھ نے گکھڑحکمران مقرب خان سے جنگ میں فتح حاصل کر کے وہاں سکھ مذہب کی پہلی داغ بیل ڈالی اور علی بیگ میں سکھوں کے پہلے پڑائو کے طور پر اسے سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ کیلئے سکھ دھرم کا مرکز بنانے کا فیصلہ کیا ۔علی بیگ کے اس تاریخی گائوں کو سکھ برادری کے بڑے رتن گڑھ اور کرتن گڑھ کے نام سے بھی یاد کرتے ہیں اور منگلا ڈیم کے پاور ہائوس میں نصب 10یونٹوں سے شروع ہونے والی نہرا پر جہلم کے کنارے ضلع میرپو رکی حدود میں واقع جاتلاں ہیڈورکس سے ملحقہ ضلع بھمبر کے پہلے گائوں علی بیگ میں ایستادہ سکھوں کے تاریخی گوردوارہ رتن گڑھ کے اندر گور مکھی زبان میں لگی تختیاں اور خالصہ کا مونو گرام اور’’وائے گرووائے گرو اوم تن گرو نانک‘‘ کے کندہ الفاظ سمیت سردار گوپال سنگھ ، سردار وزیر سنگھ اور بی بی راج کرنی کے کندہ نام اس تاریخی گور د وارہ کی داستان کا پتہ دے رہے ہیں اس زمانے میں ذرائع رسل ورسائل نا پیداور غربت عام تھی ماضی کے تاریخی واقعات کی جانچ اور پرانے بزرگوں سے سینہ بہ سینہ آگے بڑھنے والے حالات واقعات سے جو معلومات دستیاب ہوئیں ان کے مطابق جسطرح مغلیہ دور میں مغل حکمران ریاست کشمیر سے ہاتھیوں پر بیٹھ کر لاہور جانے کا تاریخی روٹ موجودہ ضلع بھمبر کی وادی سماہنی سے اختیار کرتے تھے اسی طرح جہلم ، بھمبر اور ضلع میرپور سے مسلمان ، سکھ ، ہندو اور حکمران کشمیر اور برصغیر کے علاقوں میں آنے جانے کیلئے پیدل مسافت سے یہی مغل روٹ اختیار کرتے رہے اور یہ روٹ برصغیر کی تقسیم اور 27اکتوبر 1947؁؁ء کو مقبوضہ کشمیر پر بھارتی جابرانہ تسلط کے ساتھ ہی بند ہوگیا جو آج تک بھی بند ہے ۔ سکھوں نے اسی زمانے میں علی بیگ میں گردوارہ رتن گڑھ ، سکول ، پولیس چوکی ، دوکانیں اور سرائے بھی قائم کر کے مسافروں اور مقامی غریب آبادی کیلئے مفت لنگر کا بھی انتظام کیا اور برصغیر کی تقسیم سے قبل تک چلنے والے اس عام لنگر کے آخری ’’بابا‘‘ یعنی نگران بابا سندر سنگھ المعروف ’’بابا علی بیگیا‘‘ کے نام سے مشہور تھے یہاں تک کہ بڑے بزرگوں کے سینہ بہ سینہ منتقل روایات کے مطابق گرد ونواح کے کتوں ، جانوروں او رکیڑے مکوڑوں سمیت چیونٹیوں کا بھی بطور خاص خیال رکھتے ہوئے انھیں بھی خوراک حسب ضرورت فراہم کرتے اور آغاز سے برصغیر کے بٹوارہ تک نہ صرف یہ سلسلہ جاری رہا بلکہ مسلمان اور سکھ الگ الگ مذاہب کے باوجود باہم مل جل کر اکھٹے دکھ سکھ بانٹتے اور ایک دوسرے کے مذہبی مقامات پر حاضری دینے کے ساتھ ساتھ باہم عزت واحترام بھی کرتے اور آج بھی علی بیگ اور گرد ونواح کے بڑے بزرگ اس دور کے مذہبی ونسلی اور لسانی وقبیلائی تعصبات سے بالا تر ہو کر آپسی پیارو محبت اور عزت واحترام کے باہمی رشتوں کا تذکرہ کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ علی بیگ گائوں کے تاریخی پس منظر کے حوالے سے جو روایات ملی ہیں ان کے مطابق 1857؁ء کے اوائل میں برطانوی سامراج کیخلاف جہلم چھائونی کی 14، انفنٹری بٹالین کے آزادی پسند مقامی سینکڑوں سپاہیوں نے مرزا دلدار بیگ کی سربراہی میں بغاوت کرتے ہوئے تقریباً 150برطانوی افسروں اور جوانوں کو تہہ وتیغ کرنے کے بعد دریائے جہلم عبور کرتے ہوئے علی بیگ میں پنا ہ کیلئے پڑائو کیا مگر ریاستی ڈوگرہ مہاراجہ نے اپنے مقامی بااثر ٹوڈیوں کے ذریعے بغاوت کرنے والے آزادی پسندوں کو گرفتار کر کے برطانوی سامراج کے حوالے کر دیا جنہوں نے باغیوں کو وائسرائے ہند کے ذریعے سزائے موت دیدی اور اسطرح پرانے بزرگوں سے سینہ بہ سینہ آگے بڑھنے والی معلومات کے مطابق ان ’’باغیوں‘‘ میں سے ہی رتن گڑھ پہنچنے والے مرزا علی بیگ نامی مقامی آزادی پسند سپوت کے نام پر ہی رتن گڑھ کا نام علی بیگ منسوب ہونا بتایا جاتا ہے ۔ گذشتہ سال کے آغاز میں میرپور کی ہونہار بیٹی محکمہ آثار قدیمہ، سیاحت واطلاعات آزاد کشمیر کی سیکرٹری محترمہ مدحت شہزاد کی ذاتی دلچسپی اور کاوشوں سے میرپور میں پہلی کشمیر کانفرنس برائے آرکیالوجی منعقد کی گئی جسکا افتتاح صدر ریاست آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کیا جبکہ اختتامی سیشن میں وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فارو ق حیدراور وزیر سیاحت وآثار قدیمہ مشتاق منہاس کی بوجوہ عدم شرکت کے باعث آثار قدیمہ کی 3روزہ پہلی کشمیر کانفرنس قدرے ’’پھیکی‘‘ پڑ گئی مگر سیکرٹری آثار قدیمہ، سیاحت واطلاعات محترمہ مدحت شہزاد، ڈی جی محکمہ آثار قدیمہ ارشاد پیر زادہ او رمحکمہ اطلاعات کے ڈی جی راجہ اظہر اقبال کی ’’ٹرائیکا‘‘ نے اس پہلی کانفرنس کو کامیاب کرنے کیلئے پاکستان کے چاروں صوبوں سے آثار قدیمہ کے ماہرین کا میرپور میں اکٹھ کر کے اور کانفرنس کے آخری روز تمام مندو بین کوعلی بیگ کے تاریخی گورد وارہ میں لے جا کر ماہرین آثار قدیمہ کی راہنمائی میں سکھوں کے اس مذہبی تاریخی مقام کی بحالی وبہتری کیلئے جو بیٹر ااٹھایا تھاآج ایک سال بعد ,10 تا 13 جنوری سکھ یاتریوں کے وفود کی آمدپر گوردوارہ علی بیگ میں انکی بھرپور مہمان نوازی کے انتظامات کیے گئے ہیں وہ انتہائی خوش آئند ہیں اوراس کے بھی یقینا دور رس نتائج برآمد ہوں گے ۔ اس تاریخی گوردوارہ کے دورہ کے دوران سیکرٹری آثار قدیمہ مدحت شہزاد کی موجودگی میں مقامی آباد ی کے بڑے بزرگوں نے بتایا کہ 1947؁ٗ؁ء سے قبل یہاں موسم بہار میں مارچ ، اپریل کے مہینہ میں پوری دنیا سے سکھوں کی بڑی تعداد علی بیگ کے اس تاریخی گور دوارہ میں آکر میلے میں شریک ہوتی اوروہ اپنی مذہبی رسومات ادا کر کے دلی وذہنی سکون حاصل کرتے تھے ۔ اس موقع پر محکمہ مال کے متعلقہ ذمہ داران نے گور دوارہ کے بارہ میں ’’تھری ان ون‘‘ یعنی آثار قدیمہ اور سیاحت واطلاعات کی سیکرٹری صاحبہ کو بریف کیا کہ ریکارڈمال کے مطابق اس تاریخی گورد وارہ کا رقبہ خسرہ نمبر2048کے تحت 5کنال پر محیط ہے ۔ جس میں3مکان تجاوز یعنی قبضہ مافیا نے تعمیر کر رکھے ہیں جس سے گوردوار ہ کا رقبہ کم ہو کر رہ گیا ہے اور عمارت بھی کافی پرانی اوربوسید ہ ہوچکی ہے جبکہ کارگل کے ایک شہید محمد یعقوب شہید کے نا م سے منسوب گورنمنٹ گرلز ہائی سکول علی بیگ کا پرائمری سیکشن بھی اس گوردوارہ کی عمارت میں قدرے بہتر حالت میں موجود 2کمروں میں قائم ہے اس موقع پر علی بیگ گائوں کے بڑے بزرگوں اور معززین سے بات چیت کرتے ہوئے انھیں بتایا کہ سپریم کورٹ آزاد کشمیر کے چیف جسٹس جناب چوہدری محمد ابراہیم ضیاء کی سربراہی میں فل کو رٹ نے راقم سمیت سابق صدر بار ریاض انقلابی وغیرہ کی درخواست پر 3ماہ کے اندر اقلیتوں کے مذہبی مقامات سمیت مسلمانوں کے تمام قلعوں سے قبضہ مافیا کے قبضے واگزار کرانے اور ان تاریخی عمارات ، مندروں ، گوردواروں سمیت قلعوں کی بہتری کیلئے جامع منصوبہ بنا کر عملدرآمد کرنے کا حکم دے رکھا ہے اس دوران سیکرٹری آثار قدیمہ نے معززین علاقہ کو بتایا کہ حکومت اور محکمہ تاریخی ورثہ کی بہتری وترقی کے اقدامات اٹھا رہا ہے اور علی بیگ کے اس تاریخی گوردوارہ کی بہتری وترقی اور اسے محفوظ بنانے کیلئے جلد سے جلد عملی اقدامات اٹھا کر ہم یہاں حسب سابق میلہ منعقد کر کے دنیا بھر سے سکھ برادری کو شرکت کی دعوت دینے کے خواہاں ہیں ۔ جس سے اس علاقے میں ترقی وخوشحالی آئے گی اور مقامی لوگوں کا روزگار بھی بڑھے گا اس لئے عوام علاقہ اس گور دوارہ سے تجاوزات کو از خودختم کرتے ہوئے اس کی بہتری وترقی اور حفاظت میں محکمہ کے ساتھ تعاون کریں اس موقع پر مقامی آباد ی کے معمر ترین 87سالہ بزرگ محمد حسن ولد حیات محمد نے بتایا کہ میں اپنے خاندان میں سے اکیلا رہ گیا ہوں اور میں اسی گوردوارہ کے خالصہ سکول میں 1947؁ء سے قبل پرائمری تک پڑھا ہوں اور ہم مسلمان اور سکھ اکھٹے پڑھتے اور مل جل کر پیارو محبت اور باہم احترام کے ساتھ رہتے تھے اور مارچ کے آخری ہفتے سے اپریل کے پہلے ہفتہ تک یہاں میلہ ہوتا تھا اور بیرونی دنیا سے لوگ یہاں آتے تھے ۔ اس موقع پر سیکرٹری صاحبہ نے مقامی معززین کو بتایا کہ قانون کے مطابق تاریخی عمارتوں کے 200فٹ کے فاصلے تک تعمیرات پر پابندی عائد ہے اور مقامی آبادی کے لوگ اپنی تجاوزات از خود گراد یں تاکہ تاریخی عمارتوں کی بہتری ترقی اور خوبصورتی کوحکومت اور محکمہ سپریم کورٹ کے حکم پر عملد رآمد کو یقینی بنا سکے تاکہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کے مذہبی تاریخی مقامات مندروں ، گوردواروں اور قلعوں کی بحالی کے اقدامات اٹھا کر سیاحت کو فروغ دیا جا سکے اور اس مقصد کے لئے ہم نے تمام اضلاع کی انتظامیہ سمیت بورڈ آف ریونیو کو باضابطہ خطوط بھی لکھ دیئے ہیں اور ان تاریخی عمارات کی بہتری کیلئے پی سی ون بھی بنانے کا عمل جاری ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ ریاستی ایکٹ 1974ء اور متعلقہ قوانین مسلمانوں کے تاریخی قلعوں سمیت اقلیتوں کے مذہبی مقدس مقامات کی حفاظت اور بہتری وترقی کیلئے موجود ہیں مگر ان پر ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے عملد رآمد کرانے میں زیادہ تر بوجوہ ناکام ہی نظر آتے ہیں مگر اب جبکہ سپریم کورٹ آزاد جموں وکشمیر کے فل کورٹ نے چیف جسٹس مسٹر جسٹس چوہدری محمد ابراہیم ضیاء کی سربراہی میں اقلیتوں کے مذہبی مقامات سمیت مسلمانوں کے تاریخی ورثہ قلعوں کی حفاظت اور قبضہ مافیا سے انھیں واگزار کرانے کیلئے جو تاریخی قدم اٹھایا ہے اس سے امید بندھی ہے کہ اب حکومت اور متعلقہ ادارے بھی قانون کے مطابق بہتری کی سمت عملی اقدامات ضرور اٹھائیں گے جس سے نہ صرف تاریخی ورثہ محفوظ ہوگا بلکہ سیاحت کے سال کے طور پر منانے کے بعد اب حقیقی ثمرات بھی سامنے آنا شروع ہو گئے۔یہاں یہ امربھی قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی قیادت میں سکھوں کے عظیم پیشوا بابا گورو نانک کے جنم دن کے موقع پر کرتار پور راہداری کھول کر بین الاقوامی طور پر جو درست قدم اُٹھایا ہے اُس کے پیش نظر آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں دنیا کی قدیم شاردایونیورسٹی میں شاردا پیٹھ کے بعد علی بیگ گوردوار ہ کی بہتری ترقی کیلئے اقدامات اور سکھ برادری کو یہاں دعوت دینے کے اقدامات درست صحیح مگر کرتار پور راہداری کے بعد ریاست جموں کشمیر کے سینے پر کھینچی گئی جبری خونی لکیر لائن آف کنٹرول پر مدار پور سمیت دیگر قدرتی راستے بھی آر پار کے کشمیری کھلنے کے منتظر ہیں جس کیلئے حکومت پاکستان و بھارت کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ کشمیری عوام بھی آپس میں مل جل سکیں اور آر پار اپنے مذہبی مقامات اور تاریخی ورثہ میں باآسانی آجا سکیں ۔

[X]

اپنا تبصرہ بھیجیں