امریکہ اور برطانیہ میں مقیم کشمیری زعماء کا کشمیر گلوبل کونسل امریکہ کے پلیٹ فارم سے 29,28مارچ کو ا مریکہ میں کشمیر کنونشن منعقد کرنے کا فیصلہ

میرپور(ظفر مغل سے ) ریاست جموں کشمیر کے تینوں حصوں آزاد کشمیر ، مقبوضہ جموں کشمیر اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے امریکہ اور برطانیہ میں مقیم کشمیری زعماء نے مقبوضہ کشمیر کی ناگفتہ بہ صورتحال اور حکومت پاکستان کی کشمیر پالیسی سے مایو سی کے پیش نظر کشمیر گلوبل کونسل امریکہ کے پلیٹ فارم سے 28,29مارچ کو ا مریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلاس میں کشمیر کنونشن منعقد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ریاست کی تینوں حصوں سے تمام کشمیری جماعتوں کے سربراہان سمیت نامور کشمیری شخصیات کو مدعو کرنے کیلئے رابطے تیز کر دیئے، کشمیر کنونشن میں تینوں حصوں کے کشمیری زعماء پر مشتمل کشمیر سینیٹ ، آزاد کشمیر حکومت کو تسلیم کرنے اور پاکستان سمیت بیرونی دنیا میں سفارت خانے قائم کر کے تحریک آزادی کو آگے بڑھانے اور بیرون ملک جلا وطن حکومت کے قیام کی تجاویز کشمیر کنونشن کے ایجنڈے میں شامل ہیں ۔ ذمہ دار ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ میں مقیم ریاست جموں وکشمیر کے تینوں حصوں آزاد کشمیر ، مقبوضہ کشمیر اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے کشمیری شخصیات نے مقبوضہ کشمیر میں طویل لاک ڈائون ، کرفیو اور کشمیری عوام پر عرصہ حیات تنگ کرنے سمیت پاکستان کی کشمیر پالیسی واضح نہ ہونے اور کشمیریوں کی شناخت ختم کرنے کے بھارتی حکومت کے غیر آئینی، یکطرفہ اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے منافی اقدامات کے پیش نظر بیرون ملک مقیم کشمیری زعما ء نے کشمیر گلوبل کونسل امریکہ کے قیام کے بعد 28,29مارچ کو امریکی اسٹیٹ ٹیکساس کے شہر ڈیلاس میں کشمیر کنونشن منعقد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ریاست کے تینوں حصوں آزاد کشمیر ، مقبوضہ کشمیر اور گلگت بلتستان کے سرکردہ سیاسی راہنمائوں اور نمایاں شخصیات سے رابطوں کا آغاز کر دیا ہے ذمہ دار ذرائع نے انکشاف کیا کہ کشمیر کنونشن میں تینوں حصوں کے کشمیری زعماء پر مشتمل کشمیر سینیٹ ، آزاد کشمیر حکومت کو تسلیم کرنے اور پاکستان سمیت بیرونی دنیا میں سفارت خانے قائم کر کے تحریک آزادی کو آگے بڑھانے اور بیرون ملک جلا وطن حکومت کے قیام کی تجاویز کشمیر کنونشن کے ایجنڈے میں شامل ہیں۔ اس سلسلے میں جموں کشمیر لبریشن لیگ کے مرکزی صدر ریٹائرڈ چیف جسٹس عبدالمجید ملک سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کشمیر کنونشن کے دعوت نامہ کی وصولی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اس اہم کشمیر کنونشن میں اپنا قومی کردار ضرور ادا کرینگے ادھر وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے اس کشمیر کنونشن کو آزاد کشمیر حکومت کے خلاف ایک سازش کی کڑی قرار دیتے ہوئے اس میں شرکت نہ کرنے کا بادی النظر میں عندیہ دیا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں